کسان زادہ

 کسان زادہ




پاکستان میں واحد خود دار،خود کفیل طبقہ کسانوں کا طبقہ ہے۔جواپنا15ہزار والاچنا8ہزار۔ اپنی دوہزار والی گندم تیرہ سو اور چھ ہزار والی کپاس چار ہزار میں فروخت کرکے اپنادودھ 150والا دودھ 80 روپے میں بیچنے والا کسان عام مزدور سے لیکر وزیراعظم تک کی مدد کرتا ہے،
چاہے بارشیں تباہی مچا جائیں ٹڈی دل فصلیں کھا جائے۔سنڈی نقصان کر جائے اسے کسی قسم کی امداد نہیں دی جاتی،یہ پیاز سے روٹی کھا لیتا ہے،کپڑوں کو پیوند لگا کر عید پہ پہن لیتا ہے مگر امداد نہیں مانگتا
امداد دے بھی کون,خزانہ بانٹنے والے امدادوں کا اعلان کرنے والے تو خود اس کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔
یہ بڑی بڑی گاڑیوں پر گھومنے والے سرکاری افسران کسان کو جاہل گنوار سمجھنے والے صاحبان،پینڈو کہنے والے شہریان،
کسانوں کو زلیل کرنے والے
محکمان،سیاستدان،دراصل کسانوں کے کمی کمین ہیں۔۔۔۔۔۔
ان سب کو نصیحت کی جاتی ہے کہ کسان اگر راستے میں ملیں تو گاڑی سے اتر کر احترام سے سلام کریں، کسی کام کے سلسلے میں وہ دفتر آئیں تو نہایت احترام سے پیش آئیں۔
ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں،رشوت کا مطالبہ مت کریں کیونکہ وہ تمہارے مالک ہیں۔تمہارے محسن ھیں اور تم ان کے ملازم
نوٹ۔جس کو میری پوسٹ پر کسی لفظ،حرف،سطر پر اعتراض ہو وہ مجھ سے رابطہ کرے تاکہ اسے کسان کا عہدہ دے کرچنا سے پیازی نکلوایاجاسکے۔ کپاس کی گوڈی کروائی جا سکے۔گندم کی کٹائی اور کھالوں کی صفائی کرائی جائے
زرعی ملک پہ قابض اشرافیہ کو،
انسانی حقوق کی علمبردار این جی اوز کو،اگر کسان کے مسائل نظر نہیں آتے
افسوس صد افسوس میرا ملک ترقی کرے تو کیسے کرے زرعی ملک پہ تو مراثی قابض ہیں۔۔
خدارا کسان کا استحصال بندکیاجائے ورنہ پوری قوم بھوکی مرجائے گی۔
مولا کریم کسان کی فصل میں برکت فرمائے . #آمین


Comments

Popular posts from this blog

Poultry Farming

اسٹریلین بجری طوطے اور ہمارے ماحول

Zebra finch